حامد میر کی ایک غلطی یا کوتاہی!!
- Daily information
- Jun 7, 2021
- 3 min read
1971 کی جنگ میں ہندوستان کا خاص ہتھیار وہ پراپیگنڈا تھا جس کے ذریعے جھوٹی کہانیاں پھیلا کر پاک فوج کی ایسٹرن کمانڈ کی کردار کشی کی جا رہی تھی ایسے میں کچھ صحافی وہ بھی تھے جو ہندوستان کے جھوٹے پروپیگنڈوں کا منہ توڑ جواب دے رہے تھے ان میں ایک نام حامد میر کے والد وارث میر کا تھاوہ اس وقت ظہور عالم کے اخبارمیں میں میں پاک فوج کا بھرپور دفاع کیا کرتے تھے ان کی وفات کے بعد حامد میر نے اپنے باپ کی جعلی اور جھوٹی دستاویزات پیدا کر کے بنگلہ دیشی حکومت کو بھجوانا شروع کر دیں جن میں اپنے ہی باپ کو پاکستان کا دشمن , غدار اور بنگلادیش کا امین قرار دیا گیا تھا اولاد کو اپنے باپ پر فخر ہوتا ہے اوراولاد ان کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ان کے لیےنیک نامی کاباعث بنتی ہے لیکن حامد میر دنیا کے وہ واحد بیٹھے تھے جنہوں نے اپنی ذاتی فائدے کے لئے اپنے باپ کے مرنے کے بعد صرف ان کو غدار نہیں قرا ر دیا بلکہ ان کی غداری پر بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد کی حکومت سے ایوارڈ یا بھی لیا یہ وہ شخص ہیں جو بنگلہ دیش کے سرکاری میڈیا چینلز پر تواتر کے ساتھ یہ پروپیگنڈا کرتے نظر آئے کہ حسینہ واجد کی حکومت ان تمام جماعت اسلامی کے لوگوں کو پھانسی دینا شروع کر دے جنہوں نے جنگ میں پاکستان کا ساتھ دیا تھا حامد میر کی خوشی اس وقت دیدنی تھی جب حسینہ واجد کی حکومت نے جھوٹے مقدمات بنا کر 70 سال کے بوڑھے بزرگوں کو پھانسی پر لٹکانا شروع کیا کردیا حامد میر کا کردار پچھلے دس سال میں کافی شکی متنازع رہا پاکستان میں کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ حامد میر سی آئی اے اور القاعدہ کے لیے ایک کی حیثیت سے کام کر رہے

ہیں حیران کن بات یہ بھی ہے کہ نائن الیون کے بعد حامد میرایک طرف سے اسامہ بن لادن سے ملاقات کر رہے ہیں تو دوسری طرف حامد میر کی رسائی جان کیری اور ہیلری کلنٹنتک تک بھی تھی 2009 نو اور 2014 کے درمیان جو پاکستان میں خارجین اور مذہبی باغیوں کی دہشت گردی عروج پر تھیں حامد میر کی کچھ ایسی کال بھی پکڑی گئی جن میں وہ ان خارجی دہشتگردوں کو پاک فوج کی نقل و حرکت کے بارے میں خفیہ معلومات دیا کرتے تھے ایئر فورس آفیسر خالد خواجہ کی مخبری کر کے ان کو ٹی ٹی پی کے خارجین سے شہید کروانے کا کام بھی حامد میر نے کیا یہ بات میں نہیں کر رہا یہ بات خالد خواجہ کا بیٹا برملا مختلف ٹی وی چینلز پر کر چکے ہیں حامد میرکی انحرکتوں پر جب قانونی ادارے حامد میر کے خلاف ٹھوس شواہد کی بنا پر ان کو گرفتار کرنے ہی والے تھے تاہم حامد میر نے خود پر حملے کا ڈرامہ کرایا الزام پاکستان کے انٹیلی جنس آفیسر پر لگا کر یہ واویلا شروع کر دیا کہ مجھے 6 گولیاں مار کر قتل کی کوشش کی بہت سے لوگ اس بات پر حیران رہ گئے در حقیقت حامد میر کو 6 گولیاں لگیں اور یہ چھ گولیاں بھی کسی انٹیلی جنس کے سربراہ کے کہنے پر ماری گئ تھیں توحامد میر زندہ کیسے بچ گئے یہاں پر یہ بھی بتا دوں کہ حامد میر اپنے بھائی کے حوالے سے سے پریشان رہتے ہیں کہ ان کے بھائی شاہد میر ترقی نہیں کر سکے یہی وجہ ہے کہ اپنا صحافی اثر و رسوخ استعمال کر کے اپنے بھائی کو مختلف نیوز چینلز میں اچھے پیکجز دلانے کی کوشش میں بھی مصروف عمل نظر آتے ہیں جب گزشتہ سالوں میں پاکستان میں دہشت گردی عروج پر تھی تب حامد میر ان لوگوں میں سے تھے جو یہ کہتے تھے کہ پاکستان میں دھماکے خود پاکستان کے سیکیورٹی ادارے کرنا چاہتے ہیں یہ شاید بہت سے لوگوں کو اس بات پر قائل کرنے میں بھی کامیاب ہوجاتے ہیں مگر ان کی قسمت کے کلبوشن یادیے ہے پاکستان میں پکڑا گیا اور اس نے بیان دیا کہ پاکستان میں ہونے والے دھماکے ہم نے کراتے یہ تمام باتیں جو کی گئی ہیں یہ تمام باتیں Fact and Figures پر مبنی ہیں آپ مجھ سے ضرور اختلاف کر سکتے ہیں لیکن اختلاف Facts and figures کی بیس پر کیجئے گا
Comments